امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری 60 روزہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر کسی قسم کی اضافی فیس یا رکاوٹ عائد نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ کے جوہری معائنہ کار دوبارہ ایران میں اپنی سرگرمیاں شروع کر سکیں گے، جس سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بحری پابندیوں میں نرمی کے بعد ایرانی تیل بردار اور تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مفاہمتی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہم معاملات پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک خطے میں اپنی سیکیورٹی پالیسی برقرار رکھے گا۔
مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی جانب بڑھنے کا اہم اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
