امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم امن معاہدے پر پیش رفت جاری ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں حالات بہتر ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے، ایران پر بعض تیل پابندیوں میں نرمی، خطے میں جنگ بندی اور ایران کے جوہری پروگرام پر نئی بات چیت جیسے نکات شامل ہیں۔ مذاکرات میں پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی کئی معاملات پر اتفاق باقی ہے، خاص طور پر جوہری پروگرام اور علاقائی سیکیورٹی سے متعلق نکات پر۔
ماہرین کے مطابق اگر فریقین اپنے مؤقف میں لچک دکھاتے ہیں تو یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
