امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے فلسطین کے حامی مسلم رہنما صلاح سرسور کو حراست سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ وہ تقریباً 80 روز سے امیگریشن حکام کی تحویل میں تھے۔
جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صلاح سرسور نے مؤثر انداز میں یہ مؤقف پیش کیا کہ انہیں فلسطین کی حمایت میں آواز اٹھانے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ آزادیٔ اظہار امریکی آئین کے تحت محفوظ حق ہے۔
53 سالہ صلاح سرسور گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے امریکا کے قانونی مستقل رہائشی ہیں۔ انہیں مارچ میں بعض معلومات ظاہر نہ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
رہائی کے بعد انہوں نے عدالتی فیصلے کو آزادیٔ اظہار کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی حقوق اور فلسطینی عوام کے حق میں اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
