امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ایران معاہدے اور سابق صدر باراک اوباما کے 2015 کے جوہری معاہدے میں کئی اہم فرق موجود ہیں۔ نئے معاہدے میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ کیا ہے جبکہ امریکا نے پابندیوں کے خاتمے اور اقتصادی تعاون کی پیشکش کی ہے۔
اوباما دور کے معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام پر واضح اور تفصیلی پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جن میں یورینیئم افزودگی کی حد بھی شامل تھی۔ اس کے برعکس موجودہ معاہدے میں جوہری سرگرمیوں سے متعلق کئی اہم نکات آئندہ مذاکرات کے لیے چھوڑ دیے گئے ہیں۔
نئے فریم ورک میں ایران کے لیے بڑے اقتصادی فوائد، تعمیرِ نو فنڈ اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے نکات شامل ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ معاہدہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کی کامیابی کا انحصار آئندہ مذاکرات میں طے پانے والی تفصیلی شرائط پر ہوگا، اس لیے اسے فی الحال اوباما دور کے معاہدے سے زیادہ مؤثر قرار دینا مشکل ہے۔
