امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت بڑھ کر 4.30 ڈالر فی گیلن ہو گئی ہے، جس میں ایک ہفتے کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال کو اس اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بھی بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے، جو گزشتہ کئی سالوں کی بلند ترین سطح ہے۔
کیلیفورنیا سمیت بعض ریاستوں میں پیٹرول کی قیمت 6 ڈالر فی گیلن سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، جس سے عوامی سطح پر مہنگائی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر حالات بہتر ہوئے تو قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق فوری کمی کی امید کم ہے۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جہاں ایک طرف آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کی صورتحال بتائی جا رہی ہے تو دوسری جانب سمندری راستوں پر دباؤ بھی بڑھ گیا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
