امریکا نے ایران سے وابستہ 9 شخصیات اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق یہ اقدامات ان عناصر کے خلاف کیے گئے ہیں جن پر ایرانی دفاعی اداروں اور فوجی تنظیموں کو اسلحہ اور متعلقہ سہولیات کی فراہمی میں معاونت کا الزام ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے ہتھیاروں کی خریداری اور ترسیل میں مدد دینے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ ایسے نظام کو محدود کیا جا سکے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے معاہدے کے لیے بروقت مذاکرات کا موقع ضائع کیا، جس کے نتائج اب اسے بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
