سعودی عرب میں تسبیح، جسے عربی میں “السبحہ” کہا جاتا ہے، صرف عبادت کا ذریعہ نہیں بلکہ مردوں کی ثقافتی شناخت اور روایتی ورثے کی اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ نسل در نسل منتقل ہونے والی روایت ہے جو سماجی تقریبات اور روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔
تسبیح عموماً 33 یا 99 دانوں پر مشتمل ہوتی ہے اور اسے عنبر، مرجان، صندل، عقیق، فیروزہ، یاقوت سمیت قدرتی اور جدید مصنوعی مواد سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی قیمت اور اہمیت استعمال ہونے والے مواد اور نفیس کاریگری پر منحصر ہوتی ہے۔
آج سعودی مارکیٹ میں روایتی اور جدید دونوں طرز کی تسبیحات دستیاب ہیں۔ بزرگ طبقہ سادہ اور روایتی ڈیزائن پسند کرتا ہے، جبکہ نوجوان ایسے جدید انداز اختیار کرتے ہیں جو ان کی شخصیت اور طرزِ زندگی سے مطابقت رکھتے ہوں۔ تسبیح اب زائرین اور سیاحوں کے لیے بھی ایک مقبول یادگاری تحفہ بن چکی ہے۔
