لاہور ہائی کورٹ نے حقِ مہر سے متعلق ایک اہم مقدمے میں خاتون کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نکاح کے وقت طے کیے گئے حقوق کو بعد میں یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے نچلی عدالت کا وہ فیصلہ منسوخ کر دیا جس میں حقِ مہر کے طور پر مقرر کی گئی دو ایکڑ زمین کے بدلے 16 لاکھ روپے ادا کرنے کو کافی سمجھا گیا تھا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اگر زمین کے بجائے رقم دی جائے تو اس کا تعین موجودہ مارکیٹ قیمت کے مطابق کیا جائے۔
عدالت کے مطابق نکاح نامہ ایک قانونی معاہدہ ہے اور اس کی شرائط کو فریقین کی اصل نیت اور رضامندی کی روشنی میں سمجھا جانا چاہیے۔ مزید کہا گیا کہ شوہر کسی قانونی ابہام کا سہارا لے کر بیوی کے جائز حقوق سے انکار نہیں کر سکتا۔
