ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان کے فوجداری نظام میں کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں نے سخت سزاؤں اور دباؤ کو قانونی دائرے میں لا کھڑا کیا ہے، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے بعد خواتین اور ملک چھوڑنے پر مجبور افراد کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی تجزیاتی اداروں کی حالیہ رپورٹس میں بھی افغانستان کی صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور خبردار کیا گیا ہے کہ خطے میں سرگرم شدت پسند گروہوں کی موجودگی عالمی سیکیورٹی کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔
