لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پروٹیکشن اونرشپ ایکٹ 2025 کے خلاف دائر آئینی درخواست چھٹیوں کے بعد متعلقہ بینچ کے سامنے لگانے کی ہدایت کر دی ہے۔ جسٹس فیصل زمان خان نے پی ٹی آئی کے دو اراکینِ صوبائی اسمبلی کی درخواست پر ابتدائی سماعت کی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے اصل متاثرہ فریقین کی جانب سے درخواست آنی چاہیے تھی، جبکہ اسمبلی میں اس قانون پر آواز نہ اٹھا کر براہِ راست عدالت سے رجوع کرنا مناسب نہیں۔ عدالت نے درخواست گزار کے طرزِ عمل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ ایکٹ آئین کے منافی ہے کیونکہ اس کے تحت انتظامیہ کو عدالتی نوعیت کے اختیارات دیے گئے ہیں، وکیل کے ذریعے پیشی کی اجازت محدود ہے اور سول عدالتوں کا اختیار ختم کیا گیا ہے۔ درخواست میں ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
