ذات صلة

جمع

ریاض میں فلپائنی جڑی بچیوں کی 18 گھنٹے طویل کامیاب سرجری

ریاض کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں سعودی...

مسجد الاقصی میں خلاف ورزیوں پر 8 مسلم ممالک کی مشترکہ مذمت

سعودی عرب، پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے...

غیر مجاز کلینیکل پریکٹس پر پی ایم ڈی سی کا سخت مؤقف

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے غیر مجاز کلینیکل...

انو کپور کا انکشاف، اوم پوری پر بہن کی زندگی متاثر کرنے کا الزام

بالی ووڈ اداکار انو کپور نے سینئر اداکار اوم...

پاکستان انڈر-16 ٹیم یوئیفا ڈیولپمنٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے قازقستان روانہ

پاکستان انڈر-16 فٹبال ٹیم قازقستان میں ہونے والے یوئیفا...

سعودی عرب میں 50 سال بعد روایتی جہاز سازی کی بحالی

سعودی عرب میں روایتی جہاز سازی، جو کبھی ساحلی کمیونٹیز کی شناخت اور روزگار کا اہم ذریعہ تھی، ایک بار پھر زندہ کی جا رہی ہے۔ ماضی میں ماہی گیری، تجارت اور موتیوں کی تلاش کے لیے لکڑی کے جہاز استعمال ہوتے تھے، مگر جدید دور میں یہ ہنر بتدریج ختم ہوتا گیا۔

اب وزارتِ ثقافت اور ہیریٹیج کمیشن اس قدیم روایت کو محفوظ کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ ایسٹرن کوسٹ فیسٹیول جیسے ایونٹس میں ماہر کاریگر “قلافہ” کے ذریعے لکڑی سے جہاز بنانے کا عمل دکھاتے ہیں، جہاں ہر جہاز ہاتھ سے تیار کیا جاتا ہے۔ بڑے جہاز بنانے میں ایک سال لگتا ہے جبکہ چھوٹے چند ماہ میں مکمل ہو جاتے ہیں۔

سعودی عرب نے 2025 کو “دستکاری کا سال” قرار دیا ہے، جس کے تحت تربیتی پروگرامز، تحقیق، نمائشیں اور ثقافتی میلوں کے ذریعے نوجوان نسل کو یہ ہنر سکھایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف جہاز سازی کے فن کو بچانا ہے بلکہ اسے سیاحت اور قومی شناخت کا حصہ بھی بنانا ہے۔