ذات صلة

جمع

ریاض میں فلپائنی جڑی بچیوں کی 18 گھنٹے طویل کامیاب سرجری

ریاض کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں سعودی...

مسجد الاقصی میں خلاف ورزیوں پر 8 مسلم ممالک کی مشترکہ مذمت

سعودی عرب، پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے...

غیر مجاز کلینیکل پریکٹس پر پی ایم ڈی سی کا سخت مؤقف

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے غیر مجاز کلینیکل...

انو کپور کا انکشاف، اوم پوری پر بہن کی زندگی متاثر کرنے کا الزام

بالی ووڈ اداکار انو کپور نے سینئر اداکار اوم...

پاکستان انڈر-16 ٹیم یوئیفا ڈیولپمنٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے قازقستان روانہ

پاکستان انڈر-16 فٹبال ٹیم قازقستان میں ہونے والے یوئیفا...

رمضان میں مسجد پر حملہ، مغربی کنارے میں کشیدگی میں اضافہ

مقبوضہ مغربی کنارے میں رمضان المبارک کے دوران اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے ایک مسجد کو نذرِ آتش کرنے اور دیواروں پر نفرت انگیز نعرے تحریر کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق نمازی فجر کی نماز کے لیے پہنچے تو مسجد کے دروازے پر آگ کے نشانات، کالا دھواں اور ٹوٹا ہوا شیشہ موجود تھا۔

عینی شاہد منیر رمضان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو پیٹرول اور اسپرے کین کے ساتھ مسجد کی جانب آتے اور کچھ دیر بعد فرار ہوتے دیکھا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق حملہ آوروں نے دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے اور ’ریوینج‘ اور ’پرائس ٹیگ‘ جیسے الفاظ تحریر کیے، جو فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کی کارروائیوں میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں اور فوجی کارروائیوں میں حالیہ اضافے کا حصہ ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال مغربی کنارے میں 45 مساجد کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ مقامی رہائشیوں کے مطابق رمضان کے دوران اس نوعیت کا حملہ روزے دار مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش ہے۔

اسرائیلی فوج اور پولیس نے واقعے کی تفتیش اور ملزمان کی تلاش کا دعویٰ کیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ آبادکار اکثر ایسی کارروائیوں میں استثنیٰ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023ء سے اب تک مغربی کنارے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بعض اسرائیلی پالیسیاں فلسطینی آبادی کو بے دخل کرنے اور علاقے کی آبادیاتی ساخت تبدیل کرنے کی کوششوں کے مترادف ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔