ذات صلة

جمع

سعودی عرب میں بارش کا الرٹ، کئی علاقوں میں اسکول بند

سعودی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس نے ملک کے...

ملائیشیا میں قرآن و سائنس سے متعلق عالمی کونسل کا افتتاح

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں رابطہ عالم اسلامی کے...

ریما خان کا پرانا واقعہ: ساتھی اداکارہ کو تھپڑ مارنے کا اعتراف

پاکستان کی معروف اداکارہ اور ہدایت کارہ ریما خان...

کوئٹہ کی پلے آف امیدیں برقرار، کارکردگی بہتر بنانے کا عزم

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بولنگ کوچ سہیل تنویر نے...

ایران پر حملے سے متعلق رپورٹس مسترد، ٹرمپ کا سخت ردِعمل

Donald Trump نے ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’سو فیصد غلط‘ قرار دے دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا Al Jazeera کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ امریکی فوج کے جنرل ڈین کین سے منسوب خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو امریکا اسے آسانی سے جیت سکتا ہے۔

قبل ازیں The Washington Post نے رپورٹ کیا تھا کہ جنرل کین نے ایک ملاقات میں ایران پر حملے کی صورت میں ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا، جن میں اسلحے کی کمی، علاقائی اتحادیوں کی محدود حمایت اور ایرانی جوابی کارروائی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور یوکرین کی معاونت کے باعث امریکی دفاعی ذخائر، خصوصاً میزائل دفاعی نظام اور گولہ بارود، پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔

جنرل کین کے دفتر کی جانب سے وضاحت میں کہا گیا کہ فوجی قیادت کا کام سول قیادت کو مختلف آپشنز اور ان کے ممکنہ اثرات سے آگاہ کرنا ہے جبکہ حتمی فیصلے سیاسی قیادت کرتی ہے۔

ادھر امریکی میڈیا ادارے Axios نے دعویٰ کیا کہ جنرل کین حالیہ ہفتوں میں ایران سے متعلق بریفنگ دینے والے نمایاں فوجی اہلکار رہے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو صدر سے ملاقات کا موقع کم ملا۔ ذرائع کے مطابق جنرل کین ایران کے معاملے پر محتاط مؤقف رکھتے ہیں اور کسی طویل جنگ کے خدشات ظاہر کر چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ان خبروں کو ’فیک نیوز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنرل کین نے کبھی ایران کے خلاف کارروائی کی مخالفت نہیں کی اور حکم ملنے پر مکمل طاقت سے عمل کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکا حالیہ ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ میں فوجی تیاریوں میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ ایران نے مذاکرات کی آمادگی ظاہر کی ہے تاہم اپنے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور علاقائی پالیسی سے متعلق بعض مطالبات مسترد کر دیے ہیں۔