لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ نے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ 15 سال سے زائد عمر کے بچے کو اس کی مرضی کے خلاف والدین یا کسی اور کی تحویل میں زبردستی نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے 17 سالہ لڑکی کو دارالامان سے فوری رہا کرنے اور اسے اپنی پسند کی جگہ رہنے کی اجازت دینے کا حکم دیا۔ لڑکی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ گھریلو مسائل اور مبینہ تشدد کے باعث وہ اپنی خالہ کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔
فیصلے میں عدالت نے کہا کہ آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور بچوں کی خودمختاری کا احترام قانونی و اخلاقی تقاضہ ہے۔ عدالت کے مطابق خوف اور دباؤ کے ذریعے بچوں پر فیصلے مسلط کرنا مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔
