خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے سمندر میں جہازوں کے درمیان تیل منتقلی کے ایک وسیع نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق فجیرہ اور صحار کے قریب متعدد مقامات پر یہ سرگرمیاں جاری ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مئی سے اب تک درجنوں جہاز اس نظام کا حصہ بن چکے ہیں اور لاکھوں بیرل خام تیل و پیٹرولیم مصنوعات منتقل کی جا چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار کا مقصد عالمی منڈیوں تک تیل کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔
اگرچہ امریکی حکام نے براہِ راست فوجی کردار کی تردید کی ہے، تاہم بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پورے عمل کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک عارضی انتظام ہے اور خطے میں جاری تناؤ عالمی توانائی منڈی کے لیے بدستور ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
