عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج میں 50 ہزار سے زائد ایسے اہلکار شامل ہیں جن کے پاس اسرائیلی شہریت کے ساتھ دیگر ممالک کے پاسپورٹ بھی ہیں، جن میں اکثریت امریکی اور یورپی شہریوں کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 12 ہزار امریکی، 6 ہزار فرانسیسی، 5 ہزار روسی، تقریباً 4 ہزار یوکرینی اور 1,600 جرمن شہری فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دیگر ممالک جیسے برطانیہ، کینیڈا، برازیل اور جنوبی افریقہ کے شہری بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
ان معلومات کے بعد غیر ملکی شہریوں کے ممکنہ جنگی جرائم اور بین الاقوامی قانونی کارروائی کے سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2023ء کے بعد غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ بعض ممالک میں غیر ملکی فوجیوں کے خلاف تحقیقات شروع ہو چکی ہیں، لیکن کسی کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔
