یوم مزدور کے موقع پر ایک سیمینار میں مقررین نے کہا کہ 2015 میں کراچی میں شدید گرمی کے باعث ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے، جن میں بڑی تعداد مزدور طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔
مقررین کے مطابق سرکاری اعداد و شمار اور فلاحی اداروں کے اعداد میں واضح فرق تھا، جبکہ محنت کش طبقہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ برداشت کر رہا ہے حالانکہ اس میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔
انہوں نے مزدوروں کے بچوں کی تعلیم، صحت کے مسائل اور دیگر چیلنجز پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
کراچی کی 2015 کی گرمی کی تباہی، مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوئے
