ذات صلة

جمع

سعودی عرب میں اسلامی دور سے متعلق اہم آثارِ قدیمہ کی دریافت

سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ ریجن کے...

جازان میں ’نیلی چائے‘ کی کاشت کا آغاز، غذائی فوائد کیا ہیں؟

سعودی عرب کے جازان ماؤنٹینز ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے کلیٹوریا...

الجوف میں ترش پھلوں کے شہد کی پیداوار کے سیزن کا آغاز

سعودی عرب کے شمالی ریجن الجوف میں ترش پھلوں...

اداکارہ کرن تعبیر کی سرجری کامیاب، اسپتال سے صحتیابی شروع

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ کرن تعبیر ہاتھ...

ندا یاسر کا بیٹی کے داماد کے انتخاب پر مؤقف سامنے آ گیا

معروف میزبان ندا یاسر نے اپنی بیٹی کے مستقبل...

ہر وقت کھانے کے بارے میں سوچنا: ’فوڈ نوائس‘ کیا ہے اور اس سے کیسے نمٹا جائے؟

اگر آپ ہمیشہ کھانے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ماہرین اس ذہنی کیفیت کو ’فوڈ نوائس‘ کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ بغیر حقیقی بھوک کے بھی کھانے کے خیالات بار بار ذہن پر چھائے رہیں۔

فوڈ نوائس کوئی بیماری نہیں، بلکہ ایک اصطلاح ہے جو اس کیفیت کو بیان کرتی ہے جس میں انسان یہ بار بار سوچتا ہے کہ کیا کھائیں، کب کھائیں، یا کس چیز سے پرہیز کریں۔ جدید دور میں 24 گھنٹے کھانے کی دستیابی، سوشل میڈیا فوڈ ویڈیوز، اور سخت ڈائٹس نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات میں بےقاعدہ کھانے کے اوقات، پروٹین اور فائبر کی کمی، زیادہ میٹھی اور پروسیسڈ غذا، نیند کی کمی، ذہنی دباؤ اور سخت ڈائٹنگ شامل ہیں۔ ایسی غذائیں دماغ کے ’ریوارڈ سسٹم‘ کو متحرک کرتی ہیں جس سے خیالات مسلسل دماغ میں آتے رہتے ہیں۔

فوڈ نوائس عام بھوک یا کریونگز سے مختلف ہے کیونکہ بھوک کھانے سے ختم ہو جاتی ہے، لیکن فوڈ نوائس ذہن میں مستقل رہتا ہے، جس کے اثرات میں ذہنی دباؤ، بے چینی، وزن اور صحت کے مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فوڈ نوائس کو مکمل ختم کرنا ضروری نہیں بلکہ اس کی شدت کم کرنا ممکن ہے۔ متوازن غذا، مناسب نیند، ذہنی دباؤ کم کرنا، اور سخت کیلوری گننے سے پرہیز مددگار ثابت ہوتا ہے۔ فوڈ نوائس کو سمجھنا خود کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے مسئلے کو پہچاننے کا طریقہ ہے تاکہ کھانے کے خیالات زندگی پر حاوی نہ ہوں۔