سعودی عرب کے جازان ماؤنٹینز ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے کلیٹوریا ٹرناٹیا نامی پودے کی آزمائشی کاشت شروع کر دی ہے، جس سے تیار ہونے والی نیلی چائے کو غذائیت سے بھرپور اور منفرد زرعی پیداوار قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ پہاڑی علاقوں میں پائیدار زراعت کے فروغ اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے، جس سے کسانوں کو آمدن کے نئے ذرائع بھی میسر آئیں گے۔
رپورٹس کے مطابق نیلی چائے میں کیفین موجود نہیں ہوتی اور اس میں ایسے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں جو جسم کو نقصان دہ اثرات سے تحفظ دینے میں مددگار سمجھے جاتے ہیں، اسی وجہ سے اس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
