سعودی عرب نے یمن حکومت کو 9 ارب سعودی ریال کے مالی پیکیج کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنا اور ملک میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانا ہے۔ سعودی سفیر محمد ال جابر کے مطابق اس امداد میں توانائی کے پلانٹس کے لیے پیٹرول کی فراہمی بھی شامل ہے، جس سے یمنی عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی اور روزمرہ کے بوجھ میں کمی ہوگی۔
سعودی قیادت کے تحت کام کرنے والی اعلیٰ ملٹری کمیٹی سے وابستہ سکیورٹی فورسز کی تنخواہیں جلد ادا کی جائیں گی۔ یہ اقدامات یمنی حکومت کی اقتصادی اصلاحات اور ملک میں اقتصادی استحکام کو فروغ دینے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ اس دوران سابق جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی کے دباؤ کے باعث بعض فوجی اہلکاروں کی تنخواہیں روکی گئی تھیں۔
