ذات صلة

جمع

سعودی پولٹری پیداوار 14 لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی

سعودی عرب میں پولٹری کے شعبے نے 2026 کے...

سعودی عرب میں پاکستانی فوج پہلے سے موجود، آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں...

جرمن خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ گرفتار

جرمنی کی وفاقی خفیہ ایجنسی بی این ڈی کے...

سائبیریا میں طاعون کی وباء کی خبر مسترد

روس کے صدارتی محل کریملن نے سائبیریا میں طاعون...

فلسطینی ماں کی جنگ میں بیٹے کی پیدائش

غزہ سے تعلق رکھنے والی فلسطینی خاتون امل العبادیہ...

غلافِ کعبہ کی تیاری کے 7 مراحل، انتہائی باریک اور خصوصی عمل

بیت اللہ کے مقدس غلاف کو کسوۂ کعبہ کہا جاتا ہے، جس کی تیاری ایک انتہائی منظم اور سات مراحل پر مشتمل عمل کے ذریعے کی جاتی ہے۔ یہ غلاف ہر سال محرم کی پہلی تاریخ کو تبدیل کیا جاتا ہے۔

عمل کی ابتدا پانی کی تطہیر سے ہوتی ہے، جس میں پانی سے نمکیات اور نجاست کو الگ کیا جاتا ہے تاکہ اسے کعبے کے غسل اور ریشم کو رنگنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اس کے بعد کعبے کے غلاف کی ابتدائی صفائی اور رنگائی کا مرحلہ شروع ہوتا ہے، جس میں پرانی تہہ ہٹاکر بیرونی حصہ سیاہ اور اندرونی حصہ سبز رنگ میں تیار کیا جاتا ہے۔

تیسرے مرحلے میں ریشمی دھاگوں کی مدد سے خودکار بُنائی کا عمل کیا جاتا ہے، جبکہ چوتھے مرحلے میں قرآنی آیات اور اسلامی نقش و نگار کو خصوصی سلک اسکرین تکنیک کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مختلف حصوں کو جوڑ کر سلائی کی جاتی ہے اور سنہری دھاگوں سے آرائش کی جاتی ہے۔

چھٹے مرحلے میں چاندی اور سونے کی تہہ والے دھاگوں سے نفیس کڑھائی کی جاتی ہے جبکہ آخری مرحلے میں مکمل غلاف کا باریک بینی سے معائنہ اور معیار کی حتمی منظوری دی جاتی ہے۔

اس پورے عمل میں ہزاروں میٹر ریشم، چاندی اور دیگر قیمتی مواد استعمال کیا جاتا ہے، جس سے اس مقدس غلاف کی اعلیٰ معیار اور خوبصورتی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔