ذات صلة

جمع

ریاض میں فلپائنی جڑی بچیوں کی 18 گھنٹے طویل کامیاب سرجری

ریاض کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں سعودی...

مسجد الاقصی میں خلاف ورزیوں پر 8 مسلم ممالک کی مشترکہ مذمت

سعودی عرب، پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے...

غیر مجاز کلینیکل پریکٹس پر پی ایم ڈی سی کا سخت مؤقف

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے غیر مجاز کلینیکل...

انو کپور کا انکشاف، اوم پوری پر بہن کی زندگی متاثر کرنے کا الزام

بالی ووڈ اداکار انو کپور نے سینئر اداکار اوم...

پاکستان انڈر-16 ٹیم یوئیفا ڈیولپمنٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے قازقستان روانہ

پاکستان انڈر-16 فٹبال ٹیم قازقستان میں ہونے والے یوئیفا...

لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس میں گرفتار ملزم شاہد ندیم کی ضمانت منظور کر لی

سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ تعلیم میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہیڈ ماسٹرز کو موجودہ عہدے پر برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

محکمہ تعلیم میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہیڈ ماسٹرز کو مستقل کرنے کے کیس کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی۔

عدالت نے 3 ماہ میں درخواست گزاروں کے کیسز سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایس پی ایس سی درخواست گزاروں کی قابلیت اور قوانین کے مطابق جائزہ لے۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایس پی ایس سی نے درخواست گزاروں کے کیسز لینے سے انکار کیا ہے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 937 میں سے 866 امیدواروں کی سروس فائلز ایس پی ایس سی کو بھیجی ہیں، درخواست گزار ازخود عہدہ یا نوکری چھوڑ چکے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ سروس قوانین میں کنٹریکٹ ملازمت کی قانونی حیثیت نہیں ہے،  کنٹریکٹ پر ملازمین کی بھرتی پر اعلیٰ عدالتوں نے بھی تنقید کی ہے، گریڈ 1 سے 15 کے ملازمین کی بھرتی کے لیے شفاف مسابقتی نظام ہونا چاہیے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ صوبے میں گریڈ 17 کے ہیڈ ماسٹرز کی بھرتیاں کنٹریکٹ پر ہونا حیران کن ہے، ہیڈ ماسٹرز کی پوسٹ پر بھرتیاں مسابقتی امتحان یا ترقی کی بنیاد پر ہونی چاہیے تھیں، ایس پی ایس سی کی موجودگی میں کنٹریکٹ پر بھرتیاں ناقابل فہم ہیں۔