ذات صلة

جمع

العرمہ سیزن میں ریکارڈ شرکت، 8 لاکھ سے زائد سیاح شریک

امام عبدالعزیز بن محمد رائل ریزرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے...

سعودی عرب میں شدید گرمی کی پیشگوئی، جون سب سے گرم مہینہ قرار

سعودی عرب کے قومی موسمیاتی مرکز نے رواں موسم...

گیمبلنگ ایپ کیس: ڈکی بھائی کی اہلیہ کی عبوری ضمانت میں توسیع

لاہور کی سیشن کورٹ نے یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف...

اسرائیلی کارروائی: فلسطینی خواتین کھلاڑی سمیت متعدد گرفتار

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق اسرائیلی فورسز نے...

پاکپتن کی خاتون صحافی کی لاش سوہاوہ کے جنگل سے برآمد، قتل کیسے ہوا؟

مارچ 2024 کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جہلم میں گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) پر واقع ایک قصبے سوہاوہ کی پولیس معمول کے گشت پر تھی۔ پولیس ٹیم اپنے علاقے میں مختلف مقامات پر اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی جب انہیں نواحی گاؤں لہڑی کے ایک جنگل میں ایک خاتون کی لاش کے بارے میں پتہ چلا۔ نیلے رنگ کے برقعے میں ملبوس خاتون کے جسم پر زخموں کے نشان تھے اور چہرہ تیزاب سے جلا کر مسخ کر دیا گیا تھا۔ مقتولہ کے بائیں طرف کے دانت ٹوٹے ہوئے تھے اور پیٹ اور پیٹھ میں زخم تھے۔ لاش کی بائیں جانب سے 30 بور پستول کی استعمال شدہ گولی کا خول بھی برآمد ہوا۔ پولیس نے لاش قبضے میں لی اور اس کی شناخت کے لیے چھان بین شروع کر دی، تاہم انہیں مقتولہ کے بارے میں کچھ علم نہ ہو سکا کیونکہ انہیں نہ تو کسی خاتون کی گمشدگی کی کوئی اطلاع موصول ہوئی تھی اور نہ ہی اس طرح کی کوئی رپورٹ درج کروائی گئی تھی۔ نعش کے قریب سے کوئی دستاویز بھی نہیں ملی۔ لہٰذا پولیس مخمصے کا شکار ہو گئی اور اس کے پاس پوسٹ مارٹم کے بعد شناخت کے لیے مقتولہ کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک کے لیے بھجوانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ بچا۔ واقعے کی تفتیش کرنے والے سوہاوہ پولیس کے اہلکار عظمت کمال کے مطابق ان کے پاس اس وقت تک جو معلومات اور شواہد اکٹھے ہوئے تھے ان کے تحت انہیں کو اتنا ہی علم تھا کہ مقتولہ کو تیز دھار آلہ سے قتل کر کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا گیا تھا، تاکہ شناخت چھپائی جا سکے۔ ایک ماہ بعد فرانزک کی رپورٹ موصول ہوئی تو پولیس کو علم ہوا کہ لہڑی گاوں کے جنگل سے ملنے والی نعش پاکپتن کی خاتون صحافی نوشین رانا کی ہے اور ان کی شناخت انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹس) کے ذریعے ہوئی ہے۔ پولیس شناخت کے باوجود معاملہ حل نہیں ہوا پولیس نے نوشین رانا کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کیں تو انہیں علم ہوا کہ وہ مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ بطور صحافی منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ سماجی اداروں کے ساتھ بھی کام کرتی تھیں۔ سوہاوہ پولیس کے مطابق انہوں نے پاکپتن میں ان کے بھائی رانا نصیر سے رابطہ کر کے انہیں سوہاوہ بلایا تا کہ وہ شناخت کے بعد اپنی بہن کی نعش لے جائیں۔