سعودی عرب میں موسمیاتی پیش گوئی کا شعبہ گزشتہ سات دہائیوں میں روایتی طریقوں سے ترقی کرتے ہوئے جدید ڈیجیٹل نظام میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اب موسم کی پیش گوئی کے لیے مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹس، جدید ریڈار، عددی ماڈلز اور سپر کمپیوٹرز سے مدد لی جا رہی ہے۔
نیشنل سینٹر فار میٹیئرولوجی جدید خودکار مشاہداتی مراکز کے ذریعے موسم کی زیادہ درست پیش گوئیاں اور بروقت انتباہات جاری کر رہا ہے۔ اسی طرح کلاؤڈ سیڈنگ پروگرام کے ذریعے جدید سائنسی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے بارش اور آبی وسائل میں اضافے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق موسمیاتی نظام اب صرف موسم کی پیش گوئی تک محدود نہیں بلکہ حج و عمرہ، شہری دفاع، ہوا بازی، زراعت، توانائی اور دیگر اہم قومی شعبوں کی منصوبہ بندی میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
