امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر رواں سال ہونے والے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو حکومت امریکی بالغ شہریوں کو 5 ہزار ڈالر تک کی رقم دینے کے منصوبے پر عمل کر سکتی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق حکومت کے پاس اس ممکنہ ادائیگی کے لیے کافی مالی وسائل موجود ہیں اور ملک میں بڑی مقدار میں آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بات آئرلینڈ میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی، جہاں وہ اپنے گالف کلب میں ایک ٹورنامنٹ میں شریک تھے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے ریپبلکن پارٹی کے کنونشن سے خطاب کے دوران بھی شہریوں کو 5 ہزار ڈالر کی ادائیگی کا خیال پیش کیا تھا۔
تاہم امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے واضح کیا ہے کہ ایسی کسی بھی ادائیگی کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی تفصیلات، اخراجات اور اس کے لیے رقم کے انتظام سمیت کئی معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
دوسری جانب ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ٹرمپ کی تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے اسے ایک سنجیدہ پالیسی تجویز قرار دینے سے انکار کیا۔
ریپبلکن رکن کانگریس مائیک لالر نے بھی براہِ راست 5 ہزار ڈالر کی ادائیگی کی حمایت کا وعدہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی عوام کی جیب میں مزید رقم پہنچانے کے حامی ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ اس منصوبے کے اخراجات کیسے پورے کیے جائیں گے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا پر تقریباً 4 ٹریلین ڈالر کا قرض موجود ہے۔
صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پبلک سٹیزن کی رہنما لیزا گلبرٹ نے بھی اس تجویز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ اسے انتخابی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اہم بات
5 ہزار ڈالر کی ممکنہ ادائیگی فی الحال ایک سیاسی تجویز ہے۔ اس کی حتمی منظوری، اہلیت کے معیار، ادائیگی کا طریقہ اور مالی وسائل سے متعلق تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔
Disclaimer:
This news article has been written for informational purposes based on available information and reported statements. Political matters and government policies may change over time. Readers are advised to verify the latest information through relevant official sources and reputable news outlets.
