ذات صلة

جمع

کلغی دار چڑیا، صحرا کی فطرت سے ہم آہنگ منفرد پرندہ

سعودی عرب کے حدودِ شمالیہ میں پائی جانے والی...

جازان کے پہاڑی علاقے العارضہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

سعودی عرب کے جازان ریجن کی العارضہ کمشنری اپنے...

سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی سلمان خان کی اپیل

بالی ووڈ اداکار سلمان خان نے سماجی کارکن سونم...

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنی آخری آرام گاہ سے متعلق انکشاف کر دیا

پاکستان کے معروف گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی...

سعودی حکومت نے ورک پرمٹ کی اصلاح کے لیے مہلت میں توسیع کر دی

ریاض: سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی نے نجی شعبے کی کمپنیوں اور غیر ملکی کارکنوں کے لیے اہم سہولت کا اعلان کرتے ہوئے ورک پرمٹ کی قانونی حیثیت درست کرنے کی آخری تاریخ کو موجودہ سال کے اختتام تک بڑھا دیا ہے۔ اس فیصلے سے ان اداروں اور کارکنوں کو اضافی وقت ملے گا جو مقررہ مدت کے اندر اپنے ورک پرمٹ کی تجدید یا اجرا مکمل نہیں کر سکے تھے۔

وزارت کے مطابق توسیع کا اطلاق ایسے کارکنوں پر بھی ہوگا جن کے ورک پرمٹ کی مدت ختم ہوئے ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اسی طرح وہ ملازمین بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے جنہیں کسی ادارے میں شامل ہونے کے بعد چھ ماہ سے زائد وقت گزرنے کے باوجود ورک پرمٹ جاری نہیں کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کمپنیوں اور کارکنوں کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے مناسب مہلت فراہم کرنا اور لیبر مارکیٹ میں ضابطوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ شفافیت، قانونی مطابقت اور آجر و ملازم دونوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہے۔

وزارت کے مطابق گزشتہ مہلت کے دوران متعدد اداروں نے اپنے ورک پرمٹ سے متعلق معاملات درست کرنے میں پیش رفت دکھائی، جس کے بعد مزید کمپنیوں اور کارکنوں کو موقع دینے کے لیے مدت میں توسیع کی گئی۔

تمام متعلقہ کمپنیوں اور غیر ملکی کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سال ختم ہونے سے پہلے اپنے ورک پرمٹ کی تجدید یا نیا ورک پرمٹ جاری کرانے کا عمل مکمل کر لیں۔ وزارت نے کہا کہ سرکاری آن لائن سروسز کے ذریعے بروقت کارروائی آئندہ قانونی مسائل سے بچنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

حکام نے خبردار کیا کہ مقررہ مہلت ختم ہونے کے بعد جن اداروں یا کارکنوں نے اپنے ورک پرمٹ کی حیثیت درست نہیں کی، ان کے خلاف سعودی لیبر قوانین کے تحت قانونی اور انتظامی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اسی لیے متعلقہ فریقین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار کرنے کے بجائے جلد از جلد اپنے دستاویزات اور ریکارڈ مکمل کریں۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ہزاروں غیر ملکی کارکنوں اور کمپنیوں کو اپنے قانونی معاملات منظم کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ سعودی لیبر مارکیٹ میں ضابطوں کی پاسداری اور نظامِ ملازمت کو مزید مستحکم بنانے میں بھی مدد ملے گی۔