ذات صلة

جمع

کلغی دار چڑیا، صحرا کی فطرت سے ہم آہنگ منفرد پرندہ

سعودی عرب کے حدودِ شمالیہ میں پائی جانے والی...

جازان کے پہاڑی علاقے العارضہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

سعودی عرب کے جازان ریجن کی العارضہ کمشنری اپنے...

سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی سلمان خان کی اپیل

بالی ووڈ اداکار سلمان خان نے سماجی کارکن سونم...

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنی آخری آرام گاہ سے متعلق انکشاف کر دیا

پاکستان کے معروف گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی...

# سعودی عرب: 20 یا زائد ملازمین والی کمپنیوں کے لیے گروپ ہاؤسنگ لائسنس لازمی، 30 جون اہم ڈیڈ لائن

سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی کے **قوی (Qiwa)** پلیٹ فارم نے واضح کیا ہے کہ وہ تمام ادارے جہاں 20 یا اس سے زیادہ ملازمین کام کر رہے ہیں اور کمپنی کی جانب سے اجتماعی رہائش فراہم کی گئی ہے، ان کے لیے **Collective Housing License** حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ یہ لائسنس **بلدی (Balady)** پلیٹ فارم کے ذریعے جاری کیا جائے گا، جبکہ متعلقہ خدمات سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس کا ہونا بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔

پلیٹ فارم کے مطابق اس شرط کا تعلق ملازمین کے عہدے، جاب ٹائٹل یا پیشے سے نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ کمپنی اجتماعی رہائش فراہم کر رہی ہے یا نہیں، اور ایسے ملازمین کی مجموعی تعداد کتنی ہے۔

حکام نے مزید وضاحت کی کہ اگر ملازمین اپنی فیملی کے ساتھ الگ رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں یا کمپنی انہیں ہاؤسنگ الاؤنس فراہم کرتی ہے اور وہ آزادانہ رہائش رکھتے ہیں، تو ایسے معاملات کا جائزہ بلدی پلیٹ فارم کے مقررہ ضوابط کے مطابق لیا جائے گا۔

قوی پلیٹ فارم نے خبردار کیا ہے کہ جن اداروں پر یہ شرط لاگو ہوتی ہے، اگر وہ مقررہ لائسنس حاصل نہیں کرتے تو کمپنی کی بعض توسیعی خدمات (Expansion Services) متاثر یا معطل کی جا سکتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد کارکنوں کے لیے بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنا اور شہری ماحول کے معیار کو مزید بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔

دوسری جانب وزارت نے ایکسپائرڈ ورک پرمٹ رکھنے والے ملازمین کے حوالے سے جاری خصوصی مہلت کے اختتام کی بھی یاد دہانی کرائی ہے۔ **30 جون 2026** ورک پرمٹ کی تجدید یا ملازمین کی خدمات کی منتقلی (کفالہ) مکمل کرنے کی آخری تاریخ ہے۔

وزارت کے مطابق جن ملازمین کے ورک پرمٹ کی مدت ختم ہوئے تین ماہ سے زیادہ گزر چکے ہوں گے، انہیں ڈیڈ لائن کے بعد خودکار طریقے سے کمپنی کے ریکارڈ سے خارج کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ اس دوران واجب الادا فیسیں، جرمانے اور دیگر مالی ذمہ داریاں متعلقہ کمپنی پر ہی عائد ہوں گی۔

انتظامیہ نے تمام آجروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانونی پیچیدگیوں، جرمانوں اور ممکنہ مالی نقصان سے بچنے کے لیے مقررہ مدت کے اندر تمام ضروری کارروائیاں مکمل کر لیں۔