سعودی عرب کے شمالی سرحدی علاقے میں واقع تاریخی محلات روایتی نجدی طرزِ تعمیر اور مضبوط دفاعی ڈھانچے کی بہترین مثال سمجھے جاتے ہیں۔
یہ عمارتیں مٹی، گارے اور بھوسے سے تیار کی گئی اینٹوں کے ذریعے تعمیر کی گئیں، جنہیں پتھروں کی مضبوط بنیادوں پر قائم کیا گیا تاکہ وہ صحرائی موسم، شدید گرمی، بارش اور کٹاؤ جیسے عوامل کا مقابلہ کر سکیں۔ ان محلات کی دیواریں مخروطی انداز میں بنائی گئی ہیں جن کی بنیادیں چوڑی جبکہ اوپر کی جانب بتدریج تنگ ہوتی جاتی ہیں، جو تعمیراتی مہارت اور توازن کی علامت ہیں۔
ان میں نمایاں تاریخی مقام شاہ عبدالعزیز کا محل ہے جو رفحا کے جنوب میں واقع ایک قدیم گاؤں میں تعمیر کیا گیا۔ یہ وسیع رقبے پر مشتمل محل رہائشی کمروں، بڑے ہال، صحن، کنویں، مسجد اور اصطبل جیسے حصوں پر مشتمل ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ طرزِ تعمیر نہ صرف دفاعی نقطۂ نظر سے مؤثر تھا بلکہ قدرتی ماحول کے مطابق بھی بہترین تھا، کیونکہ یہ عمارتیں گرمی کو کم اور اندرونی ماحول کو نسبتاً معتدل رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
شمالی سرحدی علاقہ آج بھی متعدد تاریخی اور ثقافتی ورثے کے مقامات کا حامل ہے جہاں سینکڑوں آثار قدیمہ اور قدیم تعمیراتی مقامات موجود ہیں جو خطے کی بھرپور تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔
