امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد واشنگٹن میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ حکومتی حلقے اسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن رہنما معاہدے کی تفصیلات اور اس کے ممکنہ نتائج پر وضاحت طلب کر رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی نئی راہیں کھول سکتی ہے، تاہم ڈیموکریٹک رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ عوام کو معاہدے کی شرائط اور ایران کی جانب سے کیے گئے وعدوں سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی مفاہمتی دستاویز پر دستخط کے بعد جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور دیگر حساس امور پر مزید مذاکرات جاری رہیں گے۔ دوسری جانب بعض امریکی سیاست دانوں نے خبردار کیا ہے کہ معاہدے کی مختلف تشریحات مستقبل میں نئے اختلافات کو جنم دے سکتی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر طے شدہ مدت میں حتمی پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا اپنی پالیسی پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
