امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو نئی قیادت کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کی تھی، تاہم منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی قیادت میں ممکنہ تبدیلی کے بعد احمدی نژاد کا نام زیرِ غور آیا، جبکہ تہران میں ان کے گھر پر حملے کا مقصد انہیں مبینہ نظر بندی سے نکالنا بتایا گیا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ابتدا میں احمدی نژاد اس منصوبے سے آگاہ تھے لیکن بعد میں انہوں نے امریکا اور اسرائیل سے تعاون سے انکار کر دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران میں وہی حکمتِ عملی اپنانے کی کوشش کی گئی جو ماضی میں وینزویلا میں نکولس مادورو کے خلاف استعمال کی گئی تھی، مگر یہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔
