مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ 28 اور 29 جولائی 2026 کو ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پورے خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال کو ہلا کر رکھ دیا: سعودی عرب نے پہلی بار امریکہ کے ساتھ مل کر عراق کے اندر ایران نواز مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر براہِ راست فضائی حملے کیے۔ یہ قدم فروری 2026 میں شروع ہونے والی ایران-امریکہ جنگ کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا اور جارحانہ فوجی اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
اس بلاگ میں ہم اس پورے واقعے کو تفصیل سے سمجھیں گے — کیا ہوا، کیوں ہوا، اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور خاص طور پر پاکستان اور خلیجی ممالک پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔
کیا ہوا؟
28 جولائی 2026 کی رات، امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا کہ امریکی اور سعودی جنگی طیاروں نے مشرقی عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کے متعدد اڈوں، ہتھیاروں کے ذخیروں اور رسد کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی گزشتہ 72 گھنٹوں میں ان گروہوں کی جانب سے امریکی افواج اور سعودی توانائی تنصیبات پر کیے گئے 30 سے زائد ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
اسی رات ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ (IRGC) نے امریکی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے ایک “اچانک حملہ” کرنے کی کوشش کی، جسے امریکی افواج نے مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ عراق میں موجود عوامی متحرک افواج (PMF) — جو زیادہ تر شیعہ اور ایران نواز مسلح گروہوں کا اتحاد ہے — کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 20 جنگجو ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ کچھ عراقی حکام کے مطابق چھ ایرانی مشیر بھی ان حملوں میں مارے گئے۔
یہ پہلا موقع تھا جب سعودی عرب نے کھلے عام عراق کے اندر فوجی کارروائی کی ذمہ داری قبول کی۔ اس سے پہلے ریاض بنیادی طور پر دفاعی حکمتِ عملی پر عمل کر رہا تھا — یعنی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنا، لیکن براہِ راست جوابی حملے سے گریز کرنا۔
کارروائی کی وجہ
اس بڑے فیصلے کے پیچھے بنیادی وجہ سعودی تیل تنصیبات پر مسلسل حملے تھے۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق، عراق میں موجود ایران نواز گروہوں نے مشرقی صوبے اور ریاض کے علاقوں میں تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کئی ڈرونز بھیجے، جنہیں سعودی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کیا۔
اس کے علاوہ چند اہم عوامل نے صورتحال کو مزید بگاڑا:
- جوزے میں امریکی افواج کے خلاف میزائل حملے، جس کے بعد امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے پانچ روزہ وقفے کے دوبارہ ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہوا۔
- آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جو دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
- حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی جہاز رانی کی ناکہ بندی کا اعلان، جس سے بحیرہ احمر کا ایک اور اہم تجارتی راستہ بھی خطرے میں پڑ گیا۔
ان تمام واقعات نے مل کر سعودی عرب کو، جو اب تک محتاط رویہ اپنائے ہوئے تھا، براہِ راست کارروائی پر مجبور کر دیا۔
سعودی حکومت کا مؤقف
سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ کارروائی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے دوران کی گئی، لیکن ایران نواز مسلح گروہوں کے “جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویے” نے مملکت کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ بیان میں ان گروہوں پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور اسلامی برادرانہ اصولوں کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی لگایا گیا۔
سعودی وزارتِ دفاع نے واضح طور پر کہا کہ مملکت کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتی، لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ادھر خلیج تعاون کونسل (GCC) نے بھی سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری کے تحفظ کا حق قرار دیا۔
اس کارروائی کے نتیجے میں عراقی وزیرِاعظم کا سعودی عرب کا مجوزہ دورہ بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا، جبکہ عراقی حکومت نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب عراق پہلے ہی سعودی اور امریکی فریقین سے رابطے میں تھا۔
خطے پر ممکنہ اثرات
یہ کارروائی خطے کے لیے کئی حوالوں سے فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے:
- سعودی-عراق تعلقات میں کشیدگی — عراق کی سرزمین پر براہِ راست حملے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں سنگین بگاڑ کا خدشہ ہے، خاص طور پر جب عراقی حکومت خود اس کارروائی کی مخالفت کر رہی ہے۔
- جنگ کے دائرہ کار میں توسیع — اب تک یہ بنیادی طور پر امریکہ-اسرائیل بمقابلہ ایران کی جنگ سمجھی جا رہی تھی، لیکن سعودی عرب کے براہِ راست ملوث ہونے سے خلیجی ممالک کے مکمل جنگ میں کھنچے جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
- سفارتی کوششوں کو دھچکا — امریکہ نے مذاکرات کا موقع دینے کے لیے 24 جولائی کو ایران پر حملے روکے تھے، مگر تازہ کشیدگی نے اس مختصر وقفے کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔
- دیگر خلیجی ریاستوں پر دباؤ — قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے ممالک پہلے ہی اپنی تنصیبات کی حفاظت کے لیے پیداوار میں کمی اور اضافی حفاظتی اقدامات کر چکے ہیں، اور اب انہیں مزید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
تیل کی قیمتوں پر اثر
اس تازہ کشیدگی کا سب سے فوری اور واضح اثر عالمی تیل منڈی پر پڑا۔ 29 جولائی 2026 کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 4.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 87.68 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچی، جبکہ امریکی معیار WTI میں بھی 4.2 فیصد اضافہ ہوا اور قیمت 82.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے پہلے تین روز کے دوران تیل کی قیمتوں میں 16 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی تھی — جو 2020 کے بعد سب سے بڑی تین روزہ گراوٹ تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی روزانہ تقریباً 15 ملین بیرل تیل کی ترسیل — یعنی دنیا کی کل پیداوار کا 20 فیصد — تسلسل سے متاثر ہو رہی ہے۔ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو تیل کی قیمتیں مختصر مدت میں 100 ڈالر فی بیرل کی سطح دوبارہ عبور کر سکتی ہیں، جیسا کہ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں ہو چکا ہے۔
عالمی سطح پر اس کا براہِ راست اثر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر پڑے گا، خاص طور پر ان ممالک میں جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔
پاکستانی اور خلیجی ممالک پر ممکنہ اثرات
پاکستان کے لیے یہ صورتحال کئی حوالوں سے حساس ہے۔ ستمبر 2025 میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ (SMDA) طے پایا تھا، جس کی رو سے ایک ملک پر جارحیت دونوں پر جارحیت تصور ہوگی۔ اسی معاہدے کے تحت پاکستان نے پہلے ہی ہزاروں فوجی، لڑاکا طیاروں کا اسکواڈرن اور فضائی دفاعی نظام سعودی عرب میں تعینات کر رکھا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف بارہا سعودی عرب کے لیے “غیر متزلزل حمایت” کا اعلان کر چکے ہیں، اور پاکستانی دفترِ خارجہ نے سعودی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ تاہم پاکستان بیک وقت ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد رکھنے، افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی، اور کمزور معیشت کی وجہ سے ایک محتاط توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ سعودی معاہدے کی پاسداری کرے بغیر اس مکمل جنگ کا حصہ بنے۔
خلیجی ممالک کے لیے بھی یہ ایک نازک موڑ ہے:
- قطر اور UAE اپنی توانائی تنصیبات کو ممکنہ حملوں سے بچانے کے لیے اضافی احتیاطی تدابیر اپنا رہے ہیں۔
- عراق خود اندرونی تقسیم کا شکار ہو سکتا ہے، کیونکہ سعودی-امریکی حملے اس کی سرزمین پر ہوئے ہیں، جبکہ ملک میں ایران نواز مسلح گروہ ایک بڑی طاقت رکھتے ہیں۔
- عام پاکستانی صارفین کے لیے سب سے براہِ راست اثر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ورکرز کی سلامتی سے متعلق خدشات ہوں گے، کیونکہ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔
نتیجہ
سعودی عرب کا عراق میں یہ فوجی اقدام محض ایک مقامی واقعہ نہیں بلکہ پورے خطے کی جنگی حکمتِ عملی میں ایک نیا اور خطرناک موڑ ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا سفارتی کوششیں دوبارہ بحال ہوتی ہیں یا کشیدگی مزید پھیلتی ہے۔ خطے کے عوام، بالخصوص پاکستان جیسے قریبی اتحادی ممالک کے شہری، اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
⚠️ ڈس کلیمر
یہ مضمون معلوماتی مقاصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے اور مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ The New York Times کے مذکورہ مضمون (29 جولائی 2026، عنوان: Saudi Arabia, US, Iran War) تک براہِ راست رسائی ممکن نہیں ہو سکی، اس لیے یہ تجزیہ دیگر معتبر ذرائع — بشمول CNN، CBS News، Al Jazeera، NPR اور Arab News — کی رپورٹس پر مبنی ہے۔ مکمل اور مصدقہ تفصیلات کے لیے قارئین کو اصل ذرائع اور تازہ ترین خبروں کا جائزہ لینے کی تجویز دی جاتی ہے۔ چونکہ یہ ایک تیزی سے بدلتی ہوئی جنگی صورتحال ہے، اس لیے حقائق وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں۔ یہ مضمون کسی بھی حکومت، ادارے یا فریق کی سرکاری پوزیشن کی نمائندگی نہیں کرتا۔
