سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے حوالے سے مملکت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ریاض اب بھی امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کو سفارتی اور مکالماتی ذرائع سے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے امریکی میڈیا کی ان رپورٹس کو مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نے امریکا پر ایران کے خلاف عسکری کارروائی کے لیے دباؤ ڈالا۔ بیان کے مطابق سعودی عرب اپنی سرزمین یا فضائی حدود کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
عہدیدار نے مزید بتایا کہ سعودی ولی عہد اور ایرانی صدر کے درمیان حالیہ ٹیلی فون رابطے میں بھی خودمختاری کے احترام اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
