امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے متعلق ایسے مطالبات کر رہا ہے جنہیں امریکا، عمان اور عالمی برادری نے قبول نہیں کیا۔ ان کے مطابق زیرِ غور انتظام صرف بحری رابطہ اور ہم آہنگی کے لیے ہے، اس میں کسی قسم کا ٹیکس یا فیس شامل نہیں۔
اس سے قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے تجویز دی تھی کہ آبنائے ہرمز کی نگرانی ایران اور عمان مشترکہ طور پر کریں، جس کے تحت دونوں ممالک اپنے اپنے حصے میں بحری آمدورفت کا انتظام سنبھالیں۔
