ذات صلة

جمع

کلغی دار چڑیا، صحرا کی فطرت سے ہم آہنگ منفرد پرندہ

سعودی عرب کے حدودِ شمالیہ میں پائی جانے والی...

جازان کے پہاڑی علاقے العارضہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

سعودی عرب کے جازان ریجن کی العارضہ کمشنری اپنے...

سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی سلمان خان کی اپیل

بالی ووڈ اداکار سلمان خان نے سماجی کارکن سونم...

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنی آخری آرام گاہ سے متعلق انکشاف کر دیا

پاکستان کے معروف گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی...

بھارتی شوہر نے اہلیہ کا نکاح لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا

بھارتی شہری کرنیل سنگھ نے اپنی اہلیہ سربجیت کور کے پاکستان میں نکاح کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے درخواست دائر کر دی ہے۔ رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراضات عائد کر دیے ہیں، جبکہ جسٹس فاروق حیدر کل ان اعتراضات پر سماعت کریں گے۔

درخواست گزار نے سابق ایم پی اے مہندر پال سنگھ کو اپنا نمائندہ مقرر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سربجیت کور 3 نومبر 2025 کو 10 روزہ یاتری ویزے پر پاکستان آئی تھیں۔

کرنیل سنگھ کے مطابق ان کی اہلیہ کو قابلِ اعتراض تصاویر کے ذریعے بلیک میل کر کے جبری طور پر مسلمان کیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہندو میرج ایکٹ کے تحت محض مذہب کی تبدیلی سے پہلی شادی ختم نہیں ہوتی۔ مزید یہ کہ نکاح نامے میں سربجیت کور نے خود کو ’طلاق یافتہ‘ ظاہر کیا، حالانکہ طلاق کی کوئی عدالتی ڈگری موجود نہیں۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ نکاح کو کالعدم قرار دیا جائے اور ویزا ختم ہونے پر سربجیت کور کو فوری طور پر ڈی پورٹ کرنے کا حکم دیا جائے۔ ساتھ ہی الزام عائد کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر بلیک میل کر کے زبردستی نکاح کرنے والے پاکستانی شوہر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب رجسٹرار آفس نے اعتراض اٹھایا ہے کہ اسپیشل پاور آف اٹارنی محکمہ خارجہ سے تصدیق شدہ نہیں ہے اور نکاح کی منسوخی کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا گیا۔

جسٹس فاروق حیدر بدھ کو بطور اعتراض اس درخواست پر سماعت کریں گے۔