امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کے استعمال سے امریکی اسلحہ ذخائر متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث دیگر ممکنہ تنازعات میں سیکیورٹی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض اہم ہتھیاروں کا ایک تہائی سے نصف حصہ استعمال ہو چکا ہے اور ان ذخائر کو دوبارہ بحال کرنے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران جنگ پر اب تک تقریباً 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ مزید دفاعی فنڈز کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
مارک کینشین نے کہا کہ جدید جنگوں میں مہنگے میزائلوں کے ساتھ کم لاگت ڈرونز کا استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو جنگی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
