امریکی اخبار کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد ہونے والے معاہدے کے باوجود مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی اور سیکیورٹی منظرنامے میں کوئی بڑی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور اس سے متعلق اہم فیصلے آئندہ مذاکرات پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ اسی طرح ایران کی دفاعی صلاحیتیں اور خطے میں اس کے اتحادی عناصر بھی بدستور موجود ہیں، جبکہ ملک کا سیاسی نظام بھی برقرار ہے۔
تجزیے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ ماہرین کے نزدیک یہ معاہدہ طاقت کے استعمال کے بجائے مزید تصادم سے بچنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ایرانی قیادت اسے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔
