سندھ کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے جنوری سے 13 جولائی تک لیے گئے دو ہزار سے زائد ادویات اور سرنجز کے نمونوں کی جانچ مکمل کر لی، جس میں 79 نمونے غیرمعیاری یا جعلی قرار دیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق 30 آٹو ڈس ایبل سرنجز بھی معیار پر پوری نہیں اتریں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیرمعیاری سرنجز کے استعمال سے انفیکشن اور خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ معیاری سرنجز کے استعمال کو محفوظ علاج کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔
