ذات صلة

جمع

ایران کے ہاتھ لگنے والے امریکی زیرِ آب ڈرون سے اہم ٹیکنالوجی جانچنے کا امکان

ایران کے ہاتھ لگنے والے امریکی فوجی زیرِ آب ڈرون نے جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق تہران اس خودکار زیرِ آب گاڑی کا تکنیکی جائزہ لے کر اس کے مختلف نظاموں کو سمجھنے اور ممکنہ طور پر اپنی مقامی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔

یہ ڈرون Dive-LD Autonomous Underwater Vehicle کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے طویل فاصلے تک نگرانی سمیت مختلف زیرِ آب مشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جدید خودکار ڈرونز کی اس نسل کا مقصد ایسے آپریشنز انجام دینا ہے جن میں کئی دن تک محدود انسانی مداخلت درکار ہو۔

امریکی حکام اور ڈرون بنانے والی کمپنی Anduril نے اس واقعے کی اہمیت کو کم قرار دیا ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق زیرِ آب گاڑی ایک پرانے ماڈل کی تھی اور تکنیکی خرابی کے باعث سمندر میں غیر فعال ہونے کے بعد ایرانی فورسز کے ہاتھ لگی۔

دوسری جانب دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران ماضی میں بھی امریکی ٹیکنالوجی حاصل ہونے کے بعد اس کا تفصیلی مطالعہ کرنے میں دلچسپی ظاہر کر چکا ہے۔ 2011 میں ایران کے ہاتھ امریکی RQ-170 Sentinel نگرانی ڈرون لگنے کے بعد بھی تہران نے اس کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے اور مقامی سطح پر اس سے مشابہ ڈیزائن تیار کرنے کے دعوے کیے تھے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ زیرِ آب ڈرون سے ایران کو فوری طور پر کوئی فیصلہ کن فوجی برتری حاصل ہونے کا امکان نہیں، تاہم اس کے اندر موجود مکینیکل اور تکنیکی نظام کا مطالعہ مستقبل میں مقامی دفاعی منصوبوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈرون کے ہارڈویئر کا جائزہ لینا ممکن ہو سکتا ہے، تاہم جدید فوجی نظاموں میں موجود سافٹ ویئر اور حفاظتی اقدامات حساس معلومات تک رسائی کو مشکل بنا سکتے ہیں۔

ایرانی سفارت خانوں کا ردعمل

امریکی ڈرون کے ایران کے قبضے میں جانے کے بعد مختلف ممالک میں ایرانی سفارتی نمائندوں کی جانب سے اس واقعے پر طنزیہ ردعمل بھی سامنے آیا۔ ایرانی سفارت خانوں کی سوشل میڈیا پوسٹس میں امریکی ڈرون کے قبضے کو تہران کے لیے ایک اہم تشہیری کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ ایران کو آبنائے ہرمز اور خطے میں اپنی طاقت اور صلاحیت کا تاثر مضبوط کرنے کے لیے ایک نیا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

اس واقعے نے امریکی بحریہ اور ڈرون بنانے والی کمپنی کی جانب سے پیش کی جانے والی معلومات میں بھی فرق کو نمایاں کیا ہے۔ امریکی بحریہ نے ڈرون کو ایک پرانا ماڈل قرار دیا، جبکہ کمپنی نے Dive-LD کو جدید اور قابلِ اعتماد خودکار زیرِ آب گاڑی کے طور پر پیش کیا ہے، جو مشکل حالات میں طویل عرصے تک آپریشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ماہرین کے مطابق واقعے کا سب سے بڑا اثر ممکنہ طور پر تکنیکی سے زیادہ سیاسی اور تاثر سازی کے میدان میں ہو سکتا ہے، کیونکہ ایران اسے امریکی فوجی ٹیکنالوجی اور خطے میں واشنگٹن کی موجودگی کے خلاف اپنے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

Disclaimer: This article has been independently rewritten and presented for informational and news-reporting purposes based on the information provided by the user. The content does not claim ownership of the original source material. Facts and developments may change as new information becomes available. Readers are encouraged to verify important information through reliable and official sources.