ذات صلة

جمع

قطر کے وزیراعظم کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، مملکت کی مکمل حمایت کا اعلان

قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں شہری اور تجارتی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

قطری وزیراعظم نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی کشیدگی کم کرنے، سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے اور خطے میں امن و سلامتی برقرار رکھنے کے اقدامات پر بھی بات چیت کی۔

سعودی حکام کے مطابق رواں ہفتے ہونے والے حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران سمیت جنوبی علاقوں میں 73 شہری زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ حملوں کے باعث بعض توانائی تنصیبات پر سرگرمیاں بھی عارضی طور پر متاثر ہوئیں۔

یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد نے حوثی حملوں کو خطرناک کشیدگی میں اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی خودمختاری، شہریوں اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

قطر کی وزارت خارجہ نے بھی ایک الگ بیان میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں سعودی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ دوحہ نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کی۔

قطری حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب کی سلامتی خلیج تعاون کونسل (GCC) کے تمام ممالک کی اجتماعی سلامتی کا اہم حصہ ہے۔ قطر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کے خلاف واضح اور مؤثر موقف اختیار کرے اور یمن سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

دریں اثنا، یمن میں حوثیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کے درمیان حالیہ ہفتوں میں لڑائی میں شدت دیکھی گئی ہے۔ اس صورتحال نے 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن میں دوبارہ بڑے پیمانے پر تنازع کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

حوثی گروپ دارالحکومت صنعاء اور شمالی یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتا ہے۔ حالیہ عرصے میں سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں موجود بحری جہازوں سے متعلق حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ یمنی حکومتی فورسز نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے خلاف مختلف محاذوں پر کارروائیاں تیز کی ہیں۔

Disclaimer: This article has been independently rewritten and structured for informational and news-reporting purposes based on the information provided. While reasonable care has been taken to present the reported facts accurately, readers are advised to verify developing or sensitive information through official and reliable sources. This content does not necessarily represent the views of the publisher.