ذات صلة

جمع

چین کے ہیومنائیڈ روبوٹ نے یوسین بولٹ کا ریکارڈ توڑا، اب حقیقی دنیا میں کام کا ہدف

چین کے ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ میں غیر معمولی رفتار دکھا کر سب کی توجہ حاصل کرلی، تاہم اس کامیابی کے بعد اس کے ڈویلپرز نے اب زیادہ مشکل مرحلے پر توجہ مرکوز کردی ہے۔ مقصد صرف تیز رفتار روبوٹ بنانا نہیں بلکہ اسے قابلِ اعتماد اور عملی کاموں کے لیے قابلِ استعمال بنانا ہے۔

بیجنگ میں ہونے والے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے دوران TianGong Ultra نامی ہیومنائیڈ روبوٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ صرف 8.64 سیکنڈ میں طے کیا۔ اس کارکردگی نے اسے انسانی رفتار کے حوالے سے ایک غیر معمولی مقام دلایا، جبکہ مقابلے سے پہلے روبوٹ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مسلسل ٹیسٹنگ اور مرمت کا عمل بھی جاری رہا۔

TianGong Ultra اور 400 میٹر کی دوڑ میں استعمال ہونے والے نسبتاً چھوٹے ماڈل Omni کی تیاری سے وابستہ انجینئر Jack Guo کے مطابق سب سے اہم لمحہ وہ تھا جب روبوٹ نے دوڑ کا آغاز کامیابی سے کیا اور 50 میٹر کا فاصلہ عبور کرلیا۔

Guo کا کہنا ہے کہ موجودہ کامیابی کے بعد ٹیم کا اگلا ہدف صرف رفتار میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ روبوٹ کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور عملی استعمال کو بہتر بنانا ہے۔ ان کے مطابق اعلیٰ کارکردگی کو ایسے نظام میں تبدیل کرنا ضروری ہے جو حقیقی ماحول میں مستقل اور مؤثر انداز میں کام کرسکے۔

بیجنگ کا روبوٹکس مرکز

TianGong Ultra کو تیار کرنے والے Beijing Humanoid Robot Innovation Center، جسے X-Humanoid کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بیجنگ کے Yizhuang ہائی ٹیک ڈویلپمنٹ زون میں قائم ہے۔

یہ علاقہ چین کے اہم روبوٹکس مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں آٹو موبائل اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں کے ساتھ ساتھ ہیومنائیڈ روبوٹس کی صنعت بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ علاقے میں روبوٹ سے متعلق مصنوعات کی نمائش اور فروخت کے مراکز سمیت ایسے مقامات بھی قائم کیے گئے ہیں جو روبوٹکس ٹیکنالوجی کو عوام کے سامنے نمایاں کرتے ہیں۔

چین میں سرکاری معاونت، مضبوط سپلائی چین اور مختلف کمپنیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت ہیومنائیڈ روبوٹکس کی ترقی کو تیز کر رہی ہے۔ تاہم ماہرین اور صنعت سے وابستہ افراد کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ شاندار مظاہروں اور ریکارڈز سے آگے بڑھ کر ایسے روبوٹس تیار کیے جائیں جو فیکٹریوں، کاروباری اداروں اور دیگر حقیقی ماحول میں قابلِ اعتماد طریقے سے کام کرسکیں۔

TianGong Ultra کی دوڑ نے روبوٹکس میں چین کی تیز رفتار پیش رفت کو اجاگر کیا ہے، جبکہ اس کے ڈویلپرز کی توجہ اب رفتار کے بجائے اعتماد، افادیت اور حقیقی دنیا میں استعمال کی جانب بڑھ رہی ہے۔

Disclaimer: This article has been independently rewritten and presented in original wording for informational and news-reporting purposes. The information is based on publicly available reports and sources. We do not claim ownership of any third-party trademarks, names, images, or original reporting referenced in the source material. Readers should verify important information through authoritative sources.