سعودی عرب میں جدید ریکارڈنگ ٹیکنالوجی آنے سے پہلے گراموفون موسیقی سننے اور روایتی گیتوں کو محفوظ رکھنے کا اہم ذریعہ تھا۔ اس کے ذریعے لوک موسیقی اور ابتدائی فنکاروں کی آوازیں گھروں اور سماجی تقریبات تک پہنچتی تھیں۔
ماہرین کے مطابق گراموفون نے سعودی فنی ورثے کو محفوظ رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور آج بھی اسے ثقافتی تاریخ کی اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اس کا استعمال ختم ہو گیا، لیکن یہ نادر آلہ اب عجائب گھروں اور نجی کلیکشنز میں ماضی کی یادگار کے طور پر محفوظ ہے۔
