ذات صلة

جمع

ریاض میں فلپائنی جڑی بچیوں کی 18 گھنٹے طویل کامیاب سرجری

ریاض کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں سعودی...

مسجد الاقصی میں خلاف ورزیوں پر 8 مسلم ممالک کی مشترکہ مذمت

سعودی عرب، پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے...

غیر مجاز کلینیکل پریکٹس پر پی ایم ڈی سی کا سخت مؤقف

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے غیر مجاز کلینیکل...

انو کپور کا انکشاف، اوم پوری پر بہن کی زندگی متاثر کرنے کا الزام

بالی ووڈ اداکار انو کپور نے سینئر اداکار اوم...

پاکستان انڈر-16 ٹیم یوئیفا ڈیولپمنٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے قازقستان روانہ

پاکستان انڈر-16 فٹبال ٹیم قازقستان میں ہونے والے یوئیفا...

سعودی عرب کا تاریخی گاوں ’الدوید‘ اور اس کی اہم تاریخی پہچان

الدوید سعودی عرب کے حدود الشمالیہ ریجن کا ایک تاریخی گاوں ہے، جو خطے کی ابتدائی انتظامی اور تجارتی تشکیل کے لیے اہمیت کا حامل رہا ہے۔

1948 میں ٹیپ لائن معاہدے کے بعد اسے علاقے کا پہلا کپیٹل قرار دیا گیا، اور سال ہجری 1376 تک یہ گورنریٹ اور اقتصادی مرکز کے طور پر اہم رہا۔ یہاں گورنریٹ، عدالت، تعلیمی ادارے، اور ’الدوید سکول‘ جیسے تاریخی ادارے موجود تھے جن کے آثار آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

اسی علاقے میں 1367 ھجری میں تعمیر شدہ تاریخی مسجد بھی واقع ہے، جسے پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں بحالی اور تعمیرِ نو کے تحت شامل کیا گیا ہے۔

الدوید کا تاریخی بازار ’المشاہدہ بازار‘ عراق اور نجد سے آنے والے تجارتی قافلوں کے لیے اہم مرکز تھا۔ اس کے علاوہ گاوں میں شمالی علاقے کا سب سے پرانا ایئرپورٹ بھی موجود تھا، جسے ٹیپ لائن کمپنی نے 20 ویں صدی کے اوائل میں تعمیر کیا۔ اس ایئرپورٹ پر کئی مشہور شخصیات، بشمول شاہ سعود بن عبدالعزیز آل سعود، بھی آئی تھیں، جو اس کی تاریخی اہمیت کو نمایاں کرتی ہیں۔