امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ کسی نئی جوہری یا سفارتی مفاہمت کے لیے سخت شرائط پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ شرائط میں ایران کے افزودہ یورینیم کا مکمل طور پر ملک سے باہر منتقل کیا جانا، مقامی سطح پر یورینیم افزودگی کا خاتمہ، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام پر پابندیاں اور خطے میں مسلح پراکسی گروپس سے تعاون روکنا شامل بتایا گیا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ایران کی تیل برآمدات محدود کرنے کے لیے بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی شرائط ایران کے لیے قبول کرنا مشکل ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
