امریکی امیگریشن حکام (ICE) نے منیسوٹا میں ایک کارروائی کے دوران پری اسکول سے گھر پہنچنے والے 5 سالہ بچے لیام کونیخو راموس کو حراست میں لے لیا، جبکہ اس کے والد ایڈرین الیگزینڈر کونیخو کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسکول حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ بچے کو والد کی گرفتاری کے لیے بطور ’’مہرہ‘‘ استعمال کیا گیا۔
اسکول سپرنٹنڈنٹ زینا اسٹینوک کے مطابق وفاقی اہلکاروں نے بچے کو اسکول سے گھر چھوڑنے والی گاڑی سے اتارا اور اسے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے کو کہا تاکہ اندر موجود افراد کی نشاندہی ہو سکے۔
بچے کا خاندان 2024 میں امریکا آیا تھا اور والد کا اسائلم کیس تاحال زیرِ سماعت ہے، جبکہ خاندان کو ملک چھوڑنے کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا تھا۔
تاہم امریکی محکمۂ داخلی سلامتی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور گرفتاری کے دوران ایک افسر بچے کی حفاظت کے لیے اس کے ساتھ موجود رہا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بچے اور اس کے والد کو ٹیکساس کے ڈِلی امیگریشن حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بچوں کے حقوق کی تنظیموں نے خراب حالات اور بیماریوں کے پھیلاؤ پر تشویش ظاہر کی ہے۔
اسکول حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں اسی ضلع کے چار طلبہ کو بھی امیگریشن حکام نے حراست میں لیا، جبکہ امریکی حکام کے مطابق منیسوٹا میں حالیہ کارروائیوں کے دوران ہزاروں گرفتاریاں کی جا چکی ہیں۔
