ذات صلة

جمع

ریاض میں فلپائنی جڑی بچیوں کی 18 گھنٹے طویل کامیاب سرجری

ریاض کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں سعودی...

مسجد الاقصی میں خلاف ورزیوں پر 8 مسلم ممالک کی مشترکہ مذمت

سعودی عرب، پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے...

غیر مجاز کلینیکل پریکٹس پر پی ایم ڈی سی کا سخت مؤقف

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے غیر مجاز کلینیکل...

انو کپور کا انکشاف، اوم پوری پر بہن کی زندگی متاثر کرنے کا الزام

بالی ووڈ اداکار انو کپور نے سینئر اداکار اوم...

پاکستان انڈر-16 ٹیم یوئیفا ڈیولپمنٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے قازقستان روانہ

پاکستان انڈر-16 فٹبال ٹیم قازقستان میں ہونے والے یوئیفا...

پاکستان میں گورننس و شفافیت پر آئی ایم ایف کے سخت خدشات، فوری اصلاحات کی سفارش

آئی ایم ایف نے پاکستان میں گورننس اور بدعنوانی سے متعلق نئی رپورٹ جاری کرتے ہوئے مسلسل کرپشن کے خدشات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ میں 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کے مطابق یہ اقدامات معیشت کو 5 سے 6.5 فیصد تک بہتر کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں اہم اداروں کو سرکاری ٹھیکوں میں دی جانے والی خصوصی مراعات ختم کرنے، ایس آئی ایف سی کے فیصلوں میں مزید شفافیت لانے اور حکومتی مالیاتی اختیارات پر سخت پارلیمانی نگرانی کی سفارش کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف نے انسدادِ بدعنوانی اداروں کی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی، ٹیکس نظام، عدالتی کارروائی اور حکومتی نگرانی میں شفافیت کی کمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔

ادارے نے مطالبہ کیا کہ ایس آئی ایف سی اپنی سالانہ رپورٹ فوراً جاری کرے اور تمام سرکاری خریداری آئندہ 12 ماہ میں ای گورننس سسٹم پر منتقل کی جائے۔

رپورٹ میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی کم شرح، بجٹ و اخراجات میں تضادات اور اثر و رسوخ والے اضلاع کو زیادہ ترقیاتی فنڈ ملنے کو شفافیت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ نیب کی 5.3 ٹریلین روپے کی ریکوری بھی معیشت کو پہنچے اصل نقصان کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے، جبکہ ماضی کی پالیسیوں میں سیاسی و معاشی اشرافیہ کی مداخلت بھی نمایاں رہی۔