سعودی عرب نے شام کے خفیہ جوہری پروگرام سے متعلق طویل عرصے سے جاری تحقیقات ختم کرنے کے عالمی جوہری ادارے (IAEA) کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ شام کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کے لیے سفارتی کوششوں کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی، جس کے بعد شام کی سابق حکومت کے دور سے متعلق جوہری سرگرمیوں کی تحقیقات کو باضابطہ طور پر اختتام پذیر کردیا گیا۔ یہ معاملہ 2011 سے زیرِ تحقیق تھا اور اس دوران شام پر جوہری سرگرمیوں سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کے الزامات سامنے آئے تھے۔
یہ قرارداد سعودی عرب، مصر، اردن اور مراکش کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ سعودی وزارت خارجہ نے اس موقع پر شام کی سلامتی، استحکام، خودمختاری اور قومی اداروں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
شام کی وزارت خارجہ نے بھی IAEA کے فیصلے کو ملک کے لیے ایک اہم سفارتی اور قانونی کامیابی قرار دیا۔ شامی حکام کے مطابق سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد نئی عبوری انتظامیہ نے ملک میں دریافت ہونے والی جوہری سرگرمیوں، مقامات اور متعلقہ مواد کے بارے میں عالمی ادارے کو معلومات فراہم کیں۔
شامی حکام کا کہنا ہے کہ نئی انتظامیہ نے جوہری معاملے پر شفافیت، بین الاقوامی تعاون اور عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کی پالیسی اختیار کی ہے۔ IAEA کے معائنہ کاروں کو اہم مقامات تک رسائی بھی دی گئی، جن میں دیر الزور کا وہ مقام شامل ہے جہاں مبینہ طور پر ایک خفیہ جوہری ری ایکٹر تعمیر کیا گیا تھا۔
IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے بھی شام کی سابق حکومت کی خفیہ جوہری سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے نئی شامی انتظامیہ کے تعاون کو سراہا۔ ان کے مطابق نئی حکومت کی جانب سے پہلے سے ظاہر نہ کیے گئے مقامات کی معلومات فراہم کرنا ایک اہم اور قابلِ ذکر اقدام تھا۔
سعودی عرب کی جانب سے IAEA کے فیصلے کا خیرمقدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام میں نئی سیاسی صورتحال کے بعد عالمی اداروں کے ساتھ تعاون اور ملک کی خودمختاری و استحکام سے متعلق سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
Disclaimer: This article has been independently rewritten for informational and news-reporting purposes based on publicly available information. The content does not intentionally reproduce the original source’s wording. Readers are encouraged to verify important developments through official statements and authoritative sources.
