یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ناروے روانگی کے دوران ان کے طیارے کو مبینہ طور پر ڈرون کے قریب آنے کے باعث خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ ناروے کے وزیراعظم جوناس گار اسٹورے نے انکشاف کیا کہ مولدووا سے پرواز کے وقت زیلنسکی کے طیارے کے قریب ایک ڈرون پہنچ گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مولدووا میں ڈرون کی موجودگی کے الرٹ کے بعد ملک کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ اس صورتحال کے باعث زیلنسکی کو ناروے لے جانے والی پرواز سمیت متعدد پروازوں کی روانگی اور آمد متاثر ہوئی۔ بعد ازاں صورتحال واضح ہونے پر فضائی آپریشن بحال کیے گئے اور زیلنسکی کا طیارہ ناروے کے لیے روانہ ہوا۔
ناروے کے وزیراعظم جوناس گار اسٹورے نے ناروے کے سرکاری نشریاتی ادارے NRK سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیلنسکی کا طیارہ مولدووا سے اڑان بھرنے کی تیاری کر رہا تھا کہ وہ تقریباً ایک ڈرون کی زد میں آ گیا۔ تاہم وزیراعظم نے اس معلومات کے ماخذ یا ڈرون اور طیارے کے درمیان اصل فاصلے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
مولدووا کے حکام کے مطابق اسی دوران دو روسی ڈرونز نے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان میں سے ایک ڈرون مولدووا کے علاقے میں گر کر تباہ ہوا جبکہ دوسرا رومانیہ کی فضائی حدود کی جانب چلا گیا۔ اس واقعے کے بعد خطے میں فضائی سلامتی اور شہری پروازوں کے تحفظ سے متعلق خدشات مزید نمایاں ہوئے۔
زیلنسکی ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں کنگ ہیرالڈ پنجم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔ واقعے کے باوجود ان کا طیارہ بعد میں ناروے پہنچا، جہاں یوکرینی صدر نے دیگر اہم شخصیات کے ساتھ تقریب میں شرکت کی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین جنگ کے تناظر میں یورپی خطے میں ڈرون اور فضائی سلامتی کے واقعات پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
Disclaimer: This article has been independently rewritten for informational and news-reporting purposes based on publicly available reports. While reasonable efforts have been made to present the information accurately, readers are advised to verify developing details through reliable official or news sources. This content does not intend to mislead, defame, or present unverified claims as established facts.
