واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے طویل ہونے کا امکان سامنے آیا ہے، امریکی حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال ان کی موجودہ صدارتی مدت کے اختتام تک برقرار رہ سکتی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت وائٹ ہاؤس کے بعض اعلیٰ عہدیداروں نے نجی ملاقاتوں میں صدر ٹرمپ کے سامنے ایران تنازع کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے خدشات کا اظہار کیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق حکام نے اس امکان پر بھی بات کی کہ تنازع جنوری 2029 میں ٹرمپ کی صدارتی مدت مکمل ہونے تک جاری رہ سکتا ہے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ان کے مطابق تہران طویل عرصے تک مزاحمت جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
ایران تنازع کے باعث خطے میں کشیدگی کے ساتھ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے اطراف کشیدگی میں اضافے کے بعد تیل کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہیں، جس سے عالمی معیشت پر مزید دباؤ کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تنازع کے دورانیے اور ممکنہ سفارتی پیش رفت کا انحصار امریکا اور ایران کے آئندہ اقدامات پر ہوگا، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات توانائی، تجارت اور عالمی مارکیٹوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
