جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی انتظامی یا سیاسی تبدیلی کا فیصلہ یکطرفہ طور پر مسلط کرنے کے بجائے اس پر وسیع قومی اور سیاسی بحث ہونی چاہیے۔ لاہور میں ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اصولی طور پر نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالف نہیں، تاہم موجودہ حالات اور وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو قدرتی وسائل سے متعلق اختیارات حاصل ہیں، اس لیے نئے صوبوں یا انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں سیاسی، سماجی اور لسانی تقسیم قومی یکجہتی کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ بیرونی قرضوں پر بڑھتے ہوئے انحصار نے معاشی خودمختاری کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امن، عوامی تحفظ اور شہریوں کے احترام کے بغیر ریاست مضبوط نہیں ہوسکتی۔ نئے صوبوں کے معاملے پر ملک میں پہلے ہی سیاسی بحث جاری ہے، جس میں مختلف رہنماؤں کی جانب سے انتظامی یونٹس بڑھانے اور اختیارات کو اضلاع اور مقامی حکومتوں تک منتقل کرنے کی تجاویز سامنے آ چکی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ کسی بھی فیصلے کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے اور کھلی بحث ضروری ہے۔
Disclaimer: This news has been independently rewritten in our own editorial wording based on information originally reported by Geo News. We do not claim ownership of the original report or any copyrighted material belonging to the original publisher. Readers are advised to refer to the original source for the complete report.
نئے صوبوں کا فیصلہ مسلط نہ کیا جائے، مولانا فضل الرحمان نے قومی بحث کا مطالبہ کر دیا
