گلگت بلتستان کی 7,027 میٹر بلند سپنتک چوٹی پر جان کی بازی ہارنے والی پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت دشوار ریسکیو آپریشن کے بعد سکردو منتقل کر دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق خراب اور مشکل حالات کے باوجود ریکوری آپریشن مکمل کیا گیا، جبکہ موسم سازگار ہونے کی صورت میں میت کو اگلی دستیاب پرواز کے ذریعے لاہور منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ر) عرفان ارشد کے مطابق ڈاکٹر اسما مشتاق 20 اگست کو پہاڑ سے واپسی کے دوران تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر ہائی ایلٹیٹیوڈ میڈیکل ایمرجنسی کا شکار ہوئیں۔ خراب موسم کے باعث میت کی واپسی کا آپریشن کئی مرتبہ متاثر ہوا۔ اس واقعے نے پاکستان میں بلند چوٹیوں پر ہونے والے ریسکیو آپریشنز، کوہ پیماؤں کی حفاظت اور ایسے مشنز کے اخراجات سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ ڈاکٹر اسما کے اہلخانہ کی جانب سے بھی ان کی بازیابی اور میت کی واپسی میں پیش آنے والے معاملات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خاص طور پر یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ انتہائی بلند اور دشوار پہاڑی علاقوں میں حادثے کے بعد ریسکیو یا میت کی واپسی کے اخراجات کی ذمہ داری حکومت، متعلقہ اداروں، کوہ پیما یا ان کے اہلخانہ میں سے کس پر عائد ہوتی ہے۔
Disclaimer: This report has been prepared and rewritten in original editorial wording based on information published by BBC Urdu. The original source and its respective copyright remain with the publisher. This content is presented for informational and news-reporting purposes.
ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت سکردو منتقل، بلند پہاڑی ریسکیو آپریشن کے اخراجات پر سوالات
